اطلاعات کے مطابق فائیو جی لائسنسوں کے اجراء کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی جا رہی ہے، جہاں منتخب ٹیلی کام کمپنیوں کو باضابطہ طور پر لائسنس دیے جائیں گے۔ اس تقریب میں فائیو جی سپیکٹرم حاصل کرنے والی کمپنیوں کی قیادت کو شرکت کے دعوت نامے بھی موصول ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے، جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، چیئرمین پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر اہم ارکان کی شرکت بھی متوقع ہے، جس سے اس تقریب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
فائیو جی لائسنس کے حصول کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں نے 15 ملین ڈالر کی بینک گارنٹی جمع کرا دی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنیاں اس جدید ٹیکنالوجی کے آغاز کے لیے سنجیدہ اور تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے پہلے ہی اپنی تکنیکی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، تاکہ لائسنس جاری ہوتے ہی بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کا آغاز کیا جا سکے۔
ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد سمیت بڑے شہری مراکز میں فائیو جی سروس لانچ کیے جانے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق فائیو جی سروس کے آغاز سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا، کال کوالٹی بہتر ہوگی، آن لائن بزنس کو فروغ ملے گا اور ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو بھی تقویت ملے گی۔ عیدالفطر سے قبل اس اہم منصوبے کا آغاز حکومت کی جانب سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے صارفین کو جدید مواصلاتی سہولیات میسر آئیں گی اور پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی سمت کی جانب بڑھتا دکھائی دے گا۔