وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے دوران مبینہ خودکش حملہ آور بمبار لائبہ عرف فرزانہ کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ مبینہ خودکش بمبار لائبہ عرف فرزانہ نے کہا کہ ایک سال سے کالعدم تنظیم کے ساتھ منسلک رہا ہوں، پہلے میری کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر ابراہیم سے ملاقات کروائی گئی، کچھ عرصے بعد ابراہیم نے میری کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر دل جان سے ملاقات کروائی۔
مبینہ خودکش بمبار لائبہ کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے کمانڈر دل جان نے بی وائی سی کے رہنماء ڈاکٹر صبیحہ سے ملاقات کروانے کا کہا تھا، ڈاکٹر صبیحہ کے ذریعے مجھے خود کش حملے کے لئے خضدار کینٹ لے جانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان فورسز کا پاکستان کی سول آبادی پر حملہ، 4 افراد شہید
اس موقع پر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے ضلع خضدار میں آپریشن کے دوران ایک خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتار کیا، بلوچ خواتین کو استعمال کر کے تحریک کا نام دیا جا رہا ہے، بلوچیت کے نام پر بلوچستان کو کس جانب لے جا رہا ہے، ہم ذمہ دار ریاست ہیں کسی بھی آپریشن میں خواتین کا احترام کرتے ہیں، اس احترام کو بشیر زیب اور کالعدم تنظیم نے ختم کیا۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اب سیکورٹی فورسز کو ہر گاڑی اور اس میں موجود خاتون مشتبہ نظر آتا ہے، بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے، سیکورٹی فورسز کو اب بلوچستان کی عوام کی مدد حاصل ہوچکی ہے، اس بچی کو کچھ تفتیشی مرکز میں رکھیں گے جس کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائیگا، کوئی فیزیکل ٹارچر نہیں کیا جائیگا اور خود بھی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے، ریاست کے خلاف بھرپور انداز میں لڑنے کی سازش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار خاتون خودکش بمبار کا کزن کالعدم بی ایل اے کا کمانڈر ہے، ہم نے گرفتار بمبار کو ڈاکٹر صبیحہ یا ڈاکٹر ماہ رنگ کا نام لینے کا نہیں کہا، سیکورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں، بلوچستان کے لوگ اب دہشت گردی کو قبول نہیں کرتے، صرف تقریریں نہیں کیں، لاپتہ افراد کا مسئل حل کیا، یہ ہیومن انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا۔