وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ترامیم اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلے اور بعد ازاں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کی گئی ہیں۔
نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت اس اسکیم کے لیے اہلیت کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ سہولت بدستور اُن پاکستانی شہریوں کے لیے دستیاب ہوگی جو پہلی بار گھر خرید رہے ہوں جن کے پاس درست کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہو اور جن کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ نہ ہو۔
یہ اسکیم گھر یا فلیٹ کی خریداری، پہلے سے موجود پلاٹ پر گھر کی تعمیر، یا پلاٹ خرید کر بعد میں اس پر گھر بنانے کے لیے فنانسنگ فراہم کرے گی۔
منظور شدہ رہائشی یونٹس میں 5 مرلہ تک کے مکانات اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹس یا اپارٹمنٹس شامل ہیں جیسا کہ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلے میں طے کیا گیا تھا۔
اس اسکیم میں کمرشل بینکس، اسلامی بینکس، مائیکرو فنانس بینکس اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ سمیت مختلف مالیاتی ادارے حصہ لیں گے۔
نئی شرائط کے مطابق زیادہ سے زیادہ قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے جبکہ قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت بیس سال برقرار رہے گی۔ حکومت پہلے دس سال تک مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی۔
بینک کی قیمت کا تعین ایک سالہ کائبور پلس تین فیصد کے مطابق ہوگا جبکہ صارفین دونوں درجوں کے لیے مقررہ پانچ فیصد شرح سود ادا کریں گے۔ اس سے پہلے دوسرے درجے کے صارفین کے لیے شرح زیادہ تھی۔
لون ٹو ویلیو تناسب نوے فیصد بمقابلہ دس فیصد ہی رہے گا، یعنی نوے فیصد رقم قرض کے ذریعے اور دس فیصد درخواست گزار کی اپنی سرمایہ کاری ہوگی۔
حکومت اس اسکیم کے تحت بقایا پورٹ فولیو کے دس فیصد تک رسک کوریج بھی فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 51 روپے فی لیٹراضافے کا امکان
اس پروگرام کا مقصد چار سال میں پانچ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کرنا ہے جن میں:
- مالی سال دو ہزار پچیس تا چھبیس میں پچاس ہزار گھر
- دو ہزار چھبیس تا ستائیس میں ایک لاکھ گھر
- دو ہزار ستائیس تا اٹھائیس میں ڈیڑھ لاکھ گھر
- دو ہزار اٹھائیس تا انتیس میں دو لاکھ گھر شامل ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس اسکیم کو پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن اور شریک مالیاتی اداروں کے تعاون سے نافذ کرے گا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے جاری کیے گئے آٹھ فیصد شرح سود والے قرضوں کو بھی کم کر کے پانچ فیصد کر دیا جائے گا۔
وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس نظرثانی شدہ اسکیم کے نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔