ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ سے دبئی، ابوظہبی، قطر، شارجہ، کویت اور بحرین کے لیے مجموعی طور پر 26 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اسی طرح اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف شہروں کے لیے 18 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جس کے باعث متعدد مسافر ایئرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔ لاہور ایئرپورٹ سے بھی 22 پروازوں کی منسوخی کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق پشاور ایئرپورٹ سے مختلف ممالک کے لیے 14 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ ملتان ایئرپورٹ سے 6 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ سے 4 اور فیصل آباد ایئرپورٹ سے 8 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ فلائٹ آپریشن میں اس غیر معمولی تعطل کے باعث ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں، جن میں عمرہ زائرین، مزدور طبقے کے افراد اور کاروباری مسافر بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے تل ابیب پر کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل داغ دیے
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ممکنہ سکیورٹی خدشات اور فضائی حدود کی صورتحال کے باعث کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے عارضی طور پر اپنی پروازوں کے شیڈول تبدیل یا محدود کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والی پروازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات دنوں کے دوران پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے منسوخ ہونے والی پروازوں کی مجموعی تعداد 814 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ موجودہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکام کے مطابق اگر خطے میں حالات معمول پر نہ آئے تو آنے والے دنوں میں مزید پروازوں کی منسوخی کا امکان بھی موجود ہے۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن اور ایئرپورٹ حکام مسافروں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل متعلقہ ایئرلائن سے اپنی پرواز کی صورتحال ضرور معلوم کر لیں تاکہ کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی خطے میں صورتحال بہتر ہوگی فلائٹ آپریشن کو مکمل طور پر بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔