پولیس کے مطابق ملزمان نے اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے بعد کین میں مزید 10 لیٹر پیٹرول ڈالنے کا مطالبہ کیا تاہم پمپ انتظامیہ نے کین میں مزید پیٹرول دینے سے انکار کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ پمپ انتظامیہ کے انکار پر ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں پیٹرول پمپ کا ایک ملازم جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرارہوگئے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے وفاقی حکومت نے رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے صورتحال پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر آج اجلاس کیے ہیں، خطے کی صورتحال کے معاملے ہمارے مختلف ممالک سے رابطے بھی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ نے پٹرولیم ڈویژن کی جس طرح رہنمائی کی اس پر ان کا شکرگزار ہوں، خطے کی جو صورتحال ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا یہ صورتحال کب تک چلے گی، خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے پٹرولیم ذخائر کو مستحکم کر لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن پٹرول پمپس کی جانب سے غیر ضروری بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ان کے خلاف وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تیل کے دو جہاز جلد پاکستان آرہے ہیں جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر اور ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے، آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ مجبوراً ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے، ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔