عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ قونصلیٹ کے اندر سے کی گئی جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ذہن نشین رہے کہ یہ احتجاج امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد کیا جا رہا تھا۔
مظاہرین کی بڑی تعداد قونصلیٹ کے باہر جمع تھی اور وہ شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے، صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں عبوری لیڈرشپ کونسل نے قیادت سنبھال لی
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔