بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کونسل میں صدرِ مملکت، عدلیہ کے سربراہ اور شوریٰ نگہبان کا ایک رکن شامل ہے، جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک امورِ مملکت کی نگرانی کریں گے۔
ایرانی مجلسِ خبرگان کے ترجمان کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مجلسِ خبرگان کی آئینی ذمہ داری ہے، یہ عمل اس صورت میں شروع کیا جاتا ہے جب سپریم لیڈر کا عہدہ خالی ہو جائے یا وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عبوری کونسل کی تشکیل ایران کے آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق کی گئی ہے تاکہ ریاستی نظام میں تسلسل برقرار رہے۔
سرکاری ذرائع اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماضی میں قیادت کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے بعض ناموں پر مشاورت کی تھی، تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی سیاسی قیادت داخلی استحکام اور انتظامی تسلسل کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد نیا سپریم لیڈر کون اور کیسے بنے گا؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجلسِ خبرگان کا آئندہ اجلاس اس معاملے میں اہم پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری بھی تہران کی سیاسی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔