وزیراعلیٰ نے اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کا معائنہ کیا اور ان کی تکنیکی خصوصیات کے بارے میں دریافت کیا۔
اس اسکیم کے پہلے مرحلے میں 1,100 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت مرد ڈرائیورز کے لیے 50 فیصد جبکہ خواتین کے لیے 60 فیصد ڈاؤن پیمنٹ ادا کر رہی ہے۔ خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور ان کی گاڑیوں کا رنگ بھی منفرد ہوگا۔
حکومت گاڑیوں کی رجسٹریشن، فٹنس ٹیسٹ اور ٹوکن ٹیکس کے اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ قرض پانچ سالہ آسان اقساط میں واپس کیا جائے گا۔
ڈرائیورز اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ای ٹیکسی میں ایک پینک بٹن نصب کیا گیا ہے جو پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا نے سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی
ای ٹیکسیوں کو آن لائن رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ مختلف مقامات پر فاسٹ چارجرز نصب کیے جا رہے ہیں۔ ان گاڑیوں میں کیمرے، وائی فائی، چارجنگ پورٹس اور ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ای ٹیکسی اسکیم خصوصاً خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اکثر خوف کے باعث ٹیکسی ڈرائیونگ شروع کرنے سے ہچکچاتی ہیں لیکن حکومت ہر ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کھڑی ہے اور خواتین کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت 4 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے جس سے ڈرائیورز ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک کما سکیں گے۔