پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر حملے کئے اور ننگرہار اسلحہ ڈپو، 3 افغان بٹالین اور طالبان ہیڈکوارٹر تباہ کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دئیے گئے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
مہمند میں گرسال سیکٹر میں افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں، باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ ہوئیں، کرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردئیے گئے، چترال سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو کامیابی سے نشانہ بنا کرتباہ کر دیا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے میں طالبان کی داؤد پوسٹ تباہ کی گئی۔ طالبان پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے ، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 72 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغان طالبان کے 30 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئیں۔ پاک فضائیہ نے بھی افغانستان پر حملے کئے، ننگرہار کے اندر بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا جبکہ 3 افغان بٹالین اور سیکٹر ہیڈکوارٹرز بھی مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل اور قندھار پر فضائی حملے کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، قندھار میں طالبان رجیم کا وزیر تعلیم ہلاک ہوگیا، فضائی حملوں کے خوف سے طالبان قیادت غاروں میں منتقل ہونا شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان ہلاکتیں 44 تک پہنچ گئیں: پاک فوج کی جوابی کارروائی جاری
باجوڑ سیکٹر سے فتنہ الخوارج نے بارڈر کراس کرنے کی کوشش کی تاہم پاک فوج نے بروقت کارروائی کر کے ایک خوارج کو پکڑلیا جس نے اپنا نام عبداللہ بتایا۔طورخم بارڈر پر پاک فوج کے بھرپور جواب میں افغان طالبان کی دم دبا کر بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی افواج کے بھرپور ردعمل کے باعث افغان طالبان دم دبا کر فرار ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان طورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر علاقے سے نکل گئے ۔پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دئیے جس میں 3خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے جنہیں خار ہسپتال منتقل کردیاگیا۔افغان طالبان کی جانب سے فائر کئے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں گرے ۔ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت میں مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، افغان طالبان نے باجوڑ میں مسجد کو نشانہ بنایا، افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے متاثرہوئے۔
ایکس پر جاری بیان میں وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مو ثر جواب دیا جا رہا ہے ۔چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان فورسز کو سخت جواب دیتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور و مو ثر جواب دیا جا رہا ہے اور دیا جاتا رہے گا، افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے ، افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاونٹس کے پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ افغان طالبان رجیم کو ہر گز جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔
عطااللہ تارڑ نے بتایاکہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور تین جوان زخمی ہیں۔افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کے دفاع میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ نے افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کو پوری دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر سے بے نقاب کر دیا۔ افغانستان کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہئے ، پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں کسی بھی پاکستانی پوسٹ کو نقصان نہیں پہنچا ہے اور نہ کسی پر قبضہ ہوا ہے ۔انھوں نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے سرحد پر افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں انہیں بھاری نقصانات پہنچائے ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کی طرف سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار جاری ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ جیسا جواب مشرقی سرحد پر بھارت کو دیا تھا اب ویساہی بھرپورجواب مغربی سرحد پردیں گے ۔ یہ کیسی ریاست ہے جو بچوں کوخودکش بمباربناکربھیجتی ہے ، دہشت گردی کے علاوہ ان کی کچھ اورکرنے کی جرات نہیں ہے۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ کسی کوپاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے ، ہماری کوشش رہی ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاک افغان سرحد پرافغان طالبان کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خوارج، ان کے ہینڈلرز اور سپورٹرز پہلے بھی ذلیل ہوئے اب بھی ذلیل ہوں گے ، سلام ہے پاک فوج کو جنہوں نے پلک جھپکتے ہی دشمن کو منہ توڑجواب دیا، سلام ہے پاک فوج کو جنہوں نے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا، پاکستان کی مٹی کاایک ایک ذرہ بنیان مرصوص بن کر لڑے گا، پاکستان کی جغرافیائی حدود ہماری ریڈلائنز ہیں جوعبور کرے گا ،ذلیل ورسوا ہوگا۔