اب پیمنٹ کیش نہیں ڈیجیٹل ہوگی، پنجاب حکومت کا حکم
پنجاب حکومت
پنجاب حکومت نے صوبے میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے متعدد کاروباری شعبوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی قرار دیا/ فائل فوٹو
لاہور (ویب ڈیسک): پنجاب حکومت نے صوبے میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے متعدد کاروباری شعبوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے تحت ریستورانز، ہوٹلز اور بیوٹی پارلرز سمیت سروس سیکٹر کے مخصوص کاروباروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام اپنائیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا، ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروباری لین دین کو آسان بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پاکستان کی پہلی ای ٹیکسی سکیم کا آغاز

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ کاروباری ادارے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منظور شدہ کیو آر کوڈ انیبلڈ بینک اکاؤنٹ دو ہفتوں (14 دن) کے اندر حاصل کریں۔ مزید ہدایت کی گئی ہے کہ کیو آر کوڈ ادائیگی کی سہولت مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال ہونی چاہیے۔ کاروباری حضرات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کیو آر کوڈ اپنے ادارے میں نمایاں اور آسانی سے نظر آنے والی جگہ پر آویزاں کریں تاکہ صارفین بلا جھجھک ڈیجیٹل ادائیگی کر سکیں۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے مطابق ریستورانز، ہوٹلز اور بیوٹی پارلرز جیسے شعبوں میں روزانہ بڑی تعداد میں صارفین خدمات حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان شعبوں کو جدید ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل کرنا ضروری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے فروغ سے نہ صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ کاروباری لین دین کا مکمل ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا، جس سے ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا۔

اعلامیے میں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر کیو آر کوڈ کی سہولت فراہم نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے اس اقدام کو وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو جدید اور شفاف معاشی نظام کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 

ضرور پڑھیں