پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والی بین الصوبائی داجل چیک پوسٹ پر مبینہ خود کش حملہ افطار کے وقت پر ہوا، خودکش حملے کے نتیجے میں چیک پوسٹ پر موجود تین پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ،حملے کے بعد ضلع بھکر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ڈی پی او شہزاد رفیق اعوان کے مطابق حملے میں پولیس اہلکار فہیم اور شہباز شہید ہوگئے جب کہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے۔
ڈپٹی کمشنر احسان علی کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی طبی عملہ بھی طلب کر لیا گیا ہے اور حملے کے بارے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج کی بربریت، ریسکیو 1122 کی ایمبولینس نذرِ آتش
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھکر کے نواح میں چیک پوسٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حملے میں شہید کانسٹیبل فہیم عباس اور شہباز مدنی کی قربانی کو سلام پیش کیا، وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے حملے میں زخمی کانسٹیبل اور راہگیر کے بہترین علاج کی ہدایت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے بھی فرض کی راہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے کانسٹیبل فہیم عباس اور شہباز مدنی کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور سوگوار خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی کانسٹیبل ارشد کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل فہیم عباس اور شہباز مدنی نے ملک و قوم کی حفاظت کے دوران فرض کی راہ میں جام شہادت نوش کیا، پنجاب پولیس شہداء کے اہلخانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی، بہترین ویلفیئر ہماری اولین ترجیح ہے۔
آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کا ہر جوان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے۔