اس حوالے سے محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے صوبے بھر کی تمام سرکاری جامعات کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ خط میں جامعات کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی کہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو نامزد کیا جائے جو طالبات کے مسائل، شکایات اور دیگر معاملات کو سنے اور ان کے ازالے کیلئے مناسب اقدامات کرے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد تعلیمی اداروں میں محفوظ اور باوقار ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
محکمۂ اعلیٰ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طالبات کو درپیش ممکنہ مشکلات کے حل اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شکایت یا مسئلے کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت نمٹایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات، داخلہ جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع
یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹ بھی جمع کروائیں۔
تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ طالبات کے تحفظ اور اعتماد کی بحالی اولین ترجیح ہے اور اسی تناظر میں یہ اقدام اٹھانا ضروری ہے۔