شہریوں کی سڑکوں اور گلیوں میں بغیر ڈھکن کے چھوڑے گئے مین ہول ایک بار پھر قیمتی جانوں کیلئے خطرہ بن گئے، مختلف اوقات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
2025 میں جنوری سے دسمبر تک مجموعی طور 27 افراد کھلے مین ہول اور نالوں کے باعث موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں 14 بچے مین ہول میں گر کر جبکہ 13 افراد کھلے نالوں میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دسمبر 2025 کو کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب تین سالہ ابراہیم فیملی کے ساتھ خریداری کے لیے آیا ہوا تھا کہ اچانک کھلے گٹر میں جا گرا اور اپنی جان گنوا بیٹھا، اس کے بعد دسمبر میں ہی کورنگی مہران ٹاؤن میں آٹھ سالہ دلبر علی کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، پولیس اور امدادی اداروں نے لاش نکالی تاہم واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسکول میں فائرنگ سے 10 افراد ہلاک، 27 زخمی
لاہور میں بھی ایسی ہی غفلت جان لیوا ثابت ہوئی جہاں جنوری 2026 میں بھاٹی کے علاقے میں ایک خاتون اور انکی کمسن بیٹی مین ہول میں گرنے سے جاں بحق ہو گئیں، واقعے کے بعد پراجیکٹ منیجر اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا کہ گٹر کھلا چھوڑنا کھلی لاپرواہی تھی۔
پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ایک سانحہ رونما ہوا جہاں شادی ہال کے احاطے میں کھیلتے ہوئے تین سالہ علی حور گٹر میں گر گیا تاہم واقعے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے ہال سیل کردیا جبکہ مالک اور مینجر کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے۔
ان مسلسل حادثات نے شہریوں کو خوفزدہ اور تفتیش میں مبتلا کردیا ہے، سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سانحے کے بعد کاروائی کے اعلانات تو ہوتے ہیں مگر مستقل حل نظر نہیں آتا، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے مین ہول فوری بند کیے جائیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور سڑکوں کی نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ مزید معصوم جانیں ضائع نہ ہوں۔