سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی سے اپنے استعفیٰ کی درخواست دی تھی، جس کی وجہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات کو نظرانداز کرنا تھا۔ اختر مینگل نے یہ فیصلہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد کیا۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت نے ان کے اور ان کی جماعت کے مطالبات پر توجہ نہیں دی، جس کے باعث انہیں یہ اقدام اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت کیسی؟ وکیل نے ملاقات کے بعد بتا دیا
اختر مینگل 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار کے حلقہ این اے 256 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی انتخابی کامیابی کے بعد توقع تھی کہ وہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کے عوام کی بہتر نمائندگی کریں گے، مگر ان کی توقعات حکومت کے رویے کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریباً ایک سال اور پانچ ماہ کے عرصے تک سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے کیے جا رہے تھے۔ تاہم اب ذرائع کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے ان کے استعفیٰ کو باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔
اس استعفیٰ کی منظوری کے بعد سردار اختر مینگل کی قومی اسمبلی سے وابستہ سیاسی سرگرمیاں ختم ہو گئی ہیں اور انہیں اب اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نئے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد بلوچستان کی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آئندہ کیا سیاسی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔