اس موقع پر نئیر بخاری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شدید موسمی حالات کے باعث انتخابی شیڈول ملتوی کیا گیا، تاہم عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کے لیے انقلابی اقدامات کیے، جن میں پٹرول اور گندم کی قیمتوں سے متعلق تاریخی فیصلے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی بھٹو خاندان سے عقیدت رکھتے ہیں اور بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنید اکبر پی ٹی آئی سے سخت ناراض، پارٹی چھوڑنے کی دھمکی
تقریب کے دوران سابق وزیر گلگت بلتستان مشتاق حسین نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2020 کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، تاہم تین دہائیوں تک پیپلز پارٹی سے وابستگی کے بعد آج دوبارہ پارٹی میں واپسی ہوئی ہے۔ مشتاق حسین نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں گلگت بلتستان کا وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی سے ہوگا اور پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔
مزید برآں سابق سرکاری ملازمین اور سابق ایس پی عبد الخالق نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پیپلز پارٹی قیادت نے نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ عوام کی رائے کا احترام ہونا چاہیے اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو ملنا چاہیے۔
تقریب میں 2020 کے انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت پر براہ راست دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔