چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ یہ رپورٹ اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سلمان صفدر کو عدالتی نمائندہ مقرر کر رہے ہیں، سلمان صفدر کو ملاقات میں کوئی مسئلہ پیش نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے سپرینڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں موجودہ حالت بارے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہم رپورٹ دیکھنے کے بعد پرسوں فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے اور چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جا رہی۔ جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آرڈر کردیا ہے، سلمان صفدر آج جائیں گے۔
عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا، تاکہ وہ ذاتی طور پر جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کریں اور ان کی حالتِ زار، سہولیات اور مجموعی صورتحال پر ایک تفصیلی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی۔