پاکستان کی استحکام سے ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت
پاکستان اصلاحات رپورٹ 2026 میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں وقتی اور ہنگامی فیصلوں سے نکل کر ادارہ جاتی اور نظامی اصلاحات کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان اصلاحات رپورٹ 2026 میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں وقتی اور ہنگامی فیصلوں سے نکل کر ادارہ جاتی اور نظامی اصلاحات کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران شدید معاشی دباؤ، داخلی سلامتی کے مسائل، علاقائی جیوپولیٹیکل کشیدگی اور ماضی کے ادارہ جاتی جمود کے باوجود حکومت نے اصلاحاتی عمل کو برقرار رکھا، 600 سے زائد اصلاحات کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دی گئی، جن میں سب سے زیادہ توجہ توانائی، قانون و انصاف، ڈیجیٹل گورننس، معاشی نظم و نسق اور خارجہ امور پر مرکوز رہی۔

توانائی اور معاشی اصلاحات:

رپورٹ میں بتایا گیا کہ توانائی کا شعبہ اصلاحات میں سرفہرست رہا، جہاں 118 سے زائد اصلاحات متعارف کرائی گئیں، بجلی کے شعبے میں پرانے مالی نقصانات کو کم کرنے کے لیے 1.225 کھرب روپے کے واجبات کے تصفیے کے انتظامات کیے گئے جبکہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی سے 1.4 کھرب روپے تک کی ممکنہ بچت کی نشاندہی کی گئی۔

نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب منتقلی، ڈیجیٹل بلنگ اور صارفین کے لیے موبائل ایپس جیسے اقدامات شفافیت کی جانب اہم قدم قرار دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ اسلام آباد پر بسنت تقریبات منسوخ کردیں، دل رنجیدہ ہے: مریم نواز

اصلاحات رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد مالی نقصانات کا خاتمہ، بجلی کے نظام میں شفافیت اور صارفین کو ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی ہے جس کے نتیجے میں کھربوں روپے کی ممکنہ بچت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

معاشی نظم و نسق کے شعبے میں ٹیکس اصلاحات، قرضوں کی شفاف نگرانی، سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل نگرانی اور کیپٹل مارکیٹس میں اصلاحات شامل ہیں، گرین سکوک کے اجرا، ڈیجیٹل کارپوریٹ رجسٹری اور متحدہ قرضہ ڈیٹا بیس جیسے اقدامات سے مالی نظم و ضبط کو تقویت ملی ہے۔

ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی تبدیلی:

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل گورننس پاکستان کی اصلاحاتی حکمت عملی کا مرکزی ستون بن چکی ہے، ای-آفس، آن لائن پورٹلز، ڈیجیٹل عدالتی نظام، خودکار کیس مینجمنٹ اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی نے صوابدیدی نظام کی جگہ قواعد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا، رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 سے 35 فیصد اصلاحات براہ راست ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق ہیں۔

قانون، انصاف اور سلامتی:

قانون و انصاف کے شعبے میں 96 اصلاحات متعارف ہوئیں، جن میں ڈیجیٹل کورٹس، متبادل تنازعات کے حل (ADR)، عدالتی بیک لاگ کم کرنے اور پارلیمانی شفافیت کے اقدامات شامل ہیں۔ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بھی ادارہ جاتی ڈھانچے کو جدید بنانے، ایوی ایشن ریفارمز اور بین الاقوامی معیار کے مطابق نظام کی بحالی پر توجہ دی گئی۔

انسانی ترقی، سماجی تحفظ اور عالمی ہم آہنگی:

رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی اور سماجی تحفظ کے نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا گیا، تاکہ غربت کے حقیقی وقت میں ڈیٹا کے ذریعے مؤثر نشانہ بندی ممکن ہو سکے، تعلیم، ہنر مندی، اوورسیز پاکستانیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اصلاحات کو ’’ہیومن کیپیٹل ایکسپورٹ‘‘ کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔

Draft Pakistan Reforms Report 2026 by M.Bilal

اسی طرح قومی اصلاحاتی ایجنڈے کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا، خاص طور پر مضبوط اداروں (SDG-16)، باعزت روزگار (SDG-8) اور جدت و انفراسٹرکچر (SDG-9) پر خصوصی توجہ دی گئی۔

درپیش خطرات اور آئندہ کا لائحہ عمل:

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اصلاحات کے اگلے مرحلے میں سب سے بڑا چیلنج مؤثر عملدرآمد، صوبائی سطح پر صلاحیت کی کمی، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور اصلاحاتی منصوبوں کو پائلٹ مرحلے سے مکمل نفاذ تک لے جانا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، سلامتی کے خدشات اور مالی گنجائش کی کمی کو بھی مستقبل کے اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔

مجموعی نتیجہ:

پاکستان اصلاحات رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان اب ’’ایپیسوڈک‘‘ یعنی وقتی اصلاحات کے دور سے نکل کر ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کو ماہرین ایک تاریخی دستاویز قرار دے رہے ہیں جو محض حکومتی دعوؤں کے بجائے عملی اصلاحات، نظامی تبدیلی اور ادارہ جاتی یادداشت کو محفوظ کرتی ہے، اور جو مستقبل میں پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور حکمرانی کے لیے ایک مستند حوالہ بن سکتی ہے