رواں سال کیلئے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کا نصاب جاری
ڈاکٹر راغب حسین نعیمی
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے میڈیا سے گفتگو کی/ فائل فوٹو
اسلام آباد (سنو نیوز): اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے رواں سال کے لیے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کا باقاعدہ نصاب جاری کر دیا، جس کے بعد عوام کو اپنی مالی عبادات ادا کرنے میں واضح رہنمائی مل گئی ہے۔

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال صدقہ فطر اور فدیۂ صوم کی کم از کم رقم 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ رقم گندم کے حساب سے ہے، جبکہ جو کے حساب سے صدقہ فطر اور فدیۂ صوم 1100 روپے اور کھجور کے حساب سے 1600 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صاحبِ استطاعت افراد اپنی مالی حیثیت کے مطابق بہتر اور زیادہ رقم بھی ادا کر سکتے ہیں، تاکہ مستحق افراد کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ صدقہ فطر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عید کے دن کوئی مسلمان بھوکا نہ رہے اور غریب و مستحق افراد بھی خوشی کے اس موقع میں شامل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صدقہ فطر کی ادائیگی عیدالفطر کی نماز سے پہلے کرنا افضل ہے، تاکہ مستحقین بروقت اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تین روز کے دوران 9 لاکھ گاڑیوں کی انٹری کا ریکارڈ

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے فدیۂ صوم کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ افراد جو دائمی بیماری یا بڑھاپے کے باعث روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان پر فدیۂ صوم ادا کرنا لازم ہے۔ فدیہ کی رقم بھی صدقہ فطر کے برابر ہی ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فدیہ کا مقصد یہ ہے کہ روزہ نہ رکھنے کے باوجود غریبوں کی مدد کی جائے اور معاشرے میں ہمدردی اور مساوات کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے جان بوجھ کر روزہ توڑنے کے کفارے سے متعلق بھی وضاحت کی اور بتایا کہ ایسا کرنے والے شخص پر مسلسل 60 روزے رکھنا لازم ہیں، اور اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا کفارہ کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے اور اس کی حرمت کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

آخر میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صدقہ فطر اور فدیۂ صوم مستحق افراد تک خود یا معتبر اداروں کے ذریعے پہنچائیں، تاکہ ان عبادات کا اصل مقصد پورا ہو اور معاشرے میں اخوت، ہمدردی اور سماجی انصاف کو فروغ ملے۔