سپریم کورٹ: عمران خان کیخلاف کیسز میں اہم پیشرفت
سپریم کورٹ
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کی/ فائل فوٹو
اسلام آباد (سنو نیوز): سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق اہم کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کیس سے متعلق ضروری قانونی ہدایات حاصل کر سکیں۔ اس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ملاقات کے معاملے پر بھی کل فیصلہ کیا جائے گا، کیونکہ دوسرے فریق کو نوٹس دیے بغیر کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

اسی دوران سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بھی پیش رفت کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حساس اور اہم معاملات میں مکمل قانونی جانچ ضروری ہے، اس لیے مناسب بینچ کے ذریعے سماعت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اہلخانہ کو موصول

دوسری جانب القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی سے متعلق دائر درخواست کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں درخواست پر مزید کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہی، جس کے باعث اسے نمٹا دیا گیا۔

اسی طرح توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب بنیادی درخواستیں مؤثر نہ رہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر مزید سماعت کا جواز نہیں بنتا۔

مزید برآں، سپریم کورٹ نے 9 مئی کے لاہور واقعات سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ سائفر کیس اور 9 مئی کے واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کی جاتی ہے تاکہ متعلقہ فریقین کو مکمل تیاری کا موقع مل سکے۔