عمران خان نے خود پمز سے علاج کرانیکی خواہش ظاہر کی: وزیر قانون
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود پمز ہسپتال سے علاج کرانے کی خواہش ظاہر کی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود پمز ہسپتال سے علاج کرانے کی خواہش ظاہر کی۔

سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ 60 برس کی عمر کے بعد آنکھ میں بلڈ سرکولیشن کے مسائل کا بہت سے افراد کو سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، عمران خان کو بھی وہی انجکشن لگایا گیا جو عام مریضوں کو لگتا ہے، سابق وزیراعظم کا کوئی آپریشن نہیں ہوا صرف انجکشن دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے خود پمز ہسپتال میں علاج کروانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اگر دوبارہ ایسا کوئی معاملہ پیش آیا تو انہیں تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اگر بانی پی ٹی آئی کو کسی قسم کی شکایت ہے تو اس کے لیے متعلقہ عدالتوں اور اپیلٹ ٹریبونلز سے قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جیل میں کسی کے ساتھ بھی غیر قانونی یا غیر آئینی سلوک نہیں کیا جا رہا، ٹرائل کے نتیجے میں سابق وزیراعظم کو سزا سنائی گئی اور بانی پی ٹی آئی اس وقت جیل میں ہیں، عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور دعا ہے کہ وہ مکمل صحت مند رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی 8 فروری کے احتجاج کی حکمت عملی سامنے آگئی

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے کبھی نہیں کہا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات نہ دی جائیں بلکہ وزیراعظم نے پمز اسپتال کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ تمام حقائق پر مبنی پریس ریلیز جاری کی جائے تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سزا یافتہ مجرم کے معاملات اپیلٹ ٹریبونل دیکھتا ہے، اگر جیل میں سہولیات کی فراہم سے متعلق شکایت ہو تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور عدالت اپیلٹ ٹریبونل متعلقہ فورمز ہیں ان سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جیل میں ملاقات کے طریقہ کار کے لیے بھی اپیلٹ ٹریبونل سے رجوع کرنا ہوتا ہے جبکہ عدالتیں نوٹیفائیڈ ہیں اور کیسز کی باقاعدہ نگرانی کر رہی ہیں۔