وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر معاونِ خصوصی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ کی زیرِ صدارت رمضان پیکج سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں سہولت بازاروں اور رمضان بازاروں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک سے قبل پنجاب بھر میں 76 سہولت بازاروں کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا تاکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش ارزاں نرخوں پر با آسانی دستیاب ہو سکیں۔ حکام کے مطابق ان بازاروں میں آٹا، چینی، دالیں، چاول، گھی، تیل، سبزیاں، پھل اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء مناسب نرخوں پر فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
اس موقع پر سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہنگامی ہدایات کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں 9 نئے سہولت بازار قائم کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان نئے رمضان سہولت بازاروں کے قیام کے لیے ضلعی سطح پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ ان بازاروں کے انتظامی امور اور نگرانی کی ذمہ داری متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور سہولت بازار اتھارٹی کو سونپ دی گئی ہے۔
معاونِ خصوصی نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے دوران سہولت بازاروں، رمضان بازاروں اور سہولت آن ویلز میں اشیائے خورونوش کی قیمت، معیار اور سپلائی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے فوڈ سیفٹی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں موجود رہیں گی۔
سلمیٰ بٹ نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تمام بازاروں میں حکومت کی جانب سے منظور شدہ برانڈنگ کو سو فیصد یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو سرکاری رمضان پیکج کی واضح شناخت حاصل ہو اور کسی قسم کی بدعنوانی یا جعلسازی کا امکان ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نرخ ناموں کی نمایاں آویزاں اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کیا جائے گا۔