بھاٹی واقعہ: متوفیہ کے خاوند کی گرفتاری پر پولیس افسران کیخلاف کارروائی
بھاٹی چوک میں ماں اور بیٹی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ پر متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے اور تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
فائل فوٹو
لاہور: (سنو نیوز) بھاٹی چوک میں ماں اور بیٹی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ پر متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے اور تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل جبکہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا،ایس پی سٹی اور متعلقہ پولیس کے رسپانس کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات ہوں گی۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے انٹیلی جنس بیورو کو آزادانہ انکوائری کے لیے خط لکھ دیا، انکوائری میں متوفیہ کے خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کے محرکات کا تعین ہو گا، پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی ؟ اس کی بھی جانچ ہو گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے مطابق خط میں آئی بی کو جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ریسیکو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کیوں ہوا اس کا بھی تعین کی جائے گا، تحقیقات کی روشنی میں افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بھاٹی گیٹ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا 6 افسران کی گرفتاری کا حکم

واضح رہے کہ اداروں کی نااہلی کی بھینٹ چڑھنے والی متوفیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا تھا کہ جب میں بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا، ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے مجھ پر تشدد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ میری اہلیہ کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی اس کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا، میں نے پولیس بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے تم جھوٹ بول رہے ہو۔

غلام مرتضیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ایس پی اور ایس ایچ او یہ کہتے رہے کہ یہ کہو تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے، پولیس مجھ سے دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتی تھی، پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا۔