وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ افسوسناک واقعے پر وہ دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے غلطی چھپانے کیلئے غلط حقائق شیئر کیے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپایا نہیں، برملا ندامت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا وزیراعلی ٰ نے ذمہ داروں کو گرفتار کرایا، پنجاب میں انسانی جان کے ضیاع کی کوئی معافی نہیں، میں ذاتی طور پر بھی بہت شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں، انتظامیہ جو بتارہی تھی وہ مجھے شیئر کرنا پڑا، استعفے کیلئے بھی تیار تھی، وزیراعلیٰ نے کہا تمہاری غلطی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا 6 افسران کی گرفتاری کا حکم
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی چوک سانحہ پر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے 6 افسران کی گرفتاری کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت سانحہ بھاٹی چوک سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت متعلقہ افسران کی سرزنش کی، مریم نواز نے واقعہ پر افسران کی دلیلیں مسترد کر کے فیک نیوز کا خود ہی پوسٹ مارٹم کر دیا۔
اس افسوسناک واقعے پر دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں،انتظامیہ نے غلطی چھپانے کے لئے غلط حقائق شئیر کئیے،وزیر اعلی مریم نواز نے آج غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپایا نہیں بلکہ برملا اس پر ندامت کا اظہار کیا،اور گناہگاروں کو گرفتار کروایا،کیونکہ پنجاب میں انسانی جان کے ضیاع کی کوئی معافی… https://t.co/m6fOo03e4x
— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) January 29, 2026
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ بھاٹی گیٹ قتل سے کم نہیں ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایم ڈی واسا، ڈی جی ایل ڈی اے سمیت تمام محکمے حادثے کے ذمہ دار ہیں، متعلقہ افسران کی مجرمانہ غفلت پر سخت کیس بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کے سینے میں دل بھی ہے یا نہیں، دس ڈیپارٹمنٹ بیٹھے ہیں لیکن جواب ایک کے پاس بھی نہیں، میری یا آپ کی بیٹی گر کر مرتی تو پورا سسٹم ہل کر رہ جاتا، افسوس ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تھانے لے گئے۔
عظمیٰ بخاری کا دفاع کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، عظمیٰ کو جو معلومات دی گئیں انہوں نے آگے بیان کیں، جو اسسٹنٹ کمشنر تعمیراتی جگہ کا دورہ ہی نہیں کرے وہ کس بات کا اسسٹنٹ کمشنر ہے، تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ہر اجلاس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہے، انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، اداروں کی غفلت اور نااہلی سے 2 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ پراجیکٹ انچارج سمیت 6 افسران کو گرفتار کیا جائے، مریم نواز نے عثمان یاسین، سیفٹی انچارج دانیال، پراجیکٹ منیجر احمد نواز اور اصغر سندھو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
مریم نواز نے پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہدحسین اور واسا کے عثمان بابر کو نوکری سے برخاست کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کو کوئی نوکری نہیں ملنی چاہیے،انہیں گرفتاربھی کیا جائے، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائیں گے۔