مبشرہ خاور مانیکا نے اس درخواست کو صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ کے ذریعے دائر کیا ہے، اور اس میں پنجاب حکومت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور دیگر متعلقہ فریقین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور درخواست گزار بشریٰ کی حقیقی بیٹی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جیل رولز کے مطابق، انہیں اپنی والدہ سے ملاقات کا حق حاصل ہے، اور ان کا یہ حق اس وقت پامال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ، ادویات تجویز
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کو ان کی والدہ سے ملنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو والدہ اور بیٹی کی فوری ملاقات کرانے کا حکم دیا جائے۔
یہ قانونی کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی نے اپنے قانونی حقوق کو تسلیم کرانے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، اور اس کے ذریعے وہ اپنی والدہ سے ملنے کا حق حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے سامنے یہ کیس اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف بشریٰ بی بی کی قید کے دوران اہل خانہ کی ملاقاتوں کے حق سے متعلق ہے بلکہ اس سے جیل کے قوانین اور قیدیوں کے حقوق کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔
اس کیس کا فیصلہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کے حق میں آ سکتا ہے اگر عدالت جیل رولز اور قیدیوں کے حقوق کو تسلیم کرے اور اس کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دے۔