پتنگ بازی پر پابندی برقرار، 5 سال قید ہوگی
محکمہ داخلہ پنجاب
محکمہ داخلہ پنجاب نے پتنگ بازی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی/فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی کی مروجہ صورتحال برقرار ہے، اور محکمہ داخلہ پنجاب نے اس حوالے سے مزید سخت اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

 محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پتنگ بازی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ اگر کوئی فرد پتنگ بازی میں ملوث پایا گیا تو اسے پانچ سال تک کی قید اور 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پتنگ اور پتنگ کی ڈور بنانے، بیچنے یا ترسیل کرنے والے افراد کو سات سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ پابندیوں کا مقصد پتنگ بازی کے دوران ہونے والی حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ پتنگ بازی میں خاص طور پر پتنگ کی ڈور کے ذریعے بہت سے افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، جن میں بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ ڈور کا کٹنا اور پتنگ کے دھاگے کی تیز دھار خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ لہذا، حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس سرگرمی کو محفوظ طریقے سے کیا جائے، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بسنت کیلئے رجسٹریشن جاری، ڈور، پتنگ پر کیو آر کوڈ لگے گا

اسی طرح، پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر لاہور میں پتنگ بازی کی مخصوص اجازت بھی دی ہے، لیکن یہ اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور کی حد تک محدود ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی مقام پر پتنگ سازی یا پتنگ بازی کرنا غیر قانونی سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مقررہ دنوں اور وقت سے پہلے پتنگ بازی کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور یہ کارروائیاں انسانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
پنجاب حکومت کی طرف سے یہ اقدام ان حادثات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے جو پتنگ بازی کی وجہ سے اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ قبل از وقت پتنگ سازی یا پتنگ بازی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس کے لیے مناسب قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔