عدالت نے بتایا کہ سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس کے بعد عدالت نے ان کی ضمانت منسوخ کر دی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا جائے اور کل 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، تاکہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا سکے اور قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ کیس اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے کی گئی کچھ ٹویٹس کو متنازعہ قرار دیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ سماجی رابطوں پر جاری مواد کے حوالے سے بھی قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی پر فردِ جرم عائد
سوشل میڈیا پر اس کیس پر عوام اور سیاسی حلقوں میں بڑی بحث دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کئی صارفین نے عدالت کے فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے، جبکہ بعض حلقوں نے آزادی اظہار رائے کے حق پر خدشات کا اظہار بھی کیا۔
ملزمان کی گرفتاری کے بعد کیس کی آئندہ سماعت میں عدالت ان کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں اگلے قانونی مراحل کا فیصلہ کرے گی۔