تفصیلات کے مطابق بسنت کے دوران شہر بھر میں 10 ہزار مفت رکشے سڑکوں پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کو نہ تو آن لائن رائیڈ بک کرنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کسی مخصوص مقام سے سفر شروع کرنے کی پابندی ہوگی، بلکہ لاہور کے کسی بھی حصے سے مفت رکشے میں سفر کیا جا سکے گا۔ بسنت کے تینوں دن شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر مفت ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد موٹرسائیکل کے استعمال میں کمی اور شہریوں کو محفوظ اور آسان سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب لاہور میں پتنگ بازی کے لیے رجسٹریشن سے متعلق سرکاری رپورٹ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پتنگ بازی کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار 247 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں مختلف کیٹیگریز کے تحت 830 درخواستیں منظور کی گئیں جبکہ 350 درخواستیں تاحال زیرِ التواء ہیں۔ قواعد کی خلاف ورزی پر 65 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ سالہ بچے کے سینے سے دوسرا بچہ برآمد، ڈاکٹرز حیران
پتنگ فروشوں کی 663 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 435 فروشوں کو رجسٹریشن کی منظوری دی گئی، 200 درخواستیں جانچ کے مراحل میں ہیں جبکہ 28 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اسی طرح پتنگ سازوں کی 423 درخواستیں جمع ہوئیں، جن میں سے 281 مینوفیکچررز کو اجازت نامے جاری کیے گئے، 113 درخواستیں زیرِ عمل ہیں اور 27 درخواستیں قواعد پر پورا نہ اترنے کے باعث مسترد کی گئیں۔ پتنگ ٹریڈرز کی 149 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 108 ٹریڈرز کو رجسٹریشن کی منظوری دی گئی۔
حکومت پنجاب کی ہدایات پر لاہور میں پتنگ بازی کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ غیر قانونی پتنگ فروشی اور خطرناک ڈور کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صرف رجسٹرڈ افراد کو پتنگ سازی، فروخت اور تجارت کی اجازت ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔