عدالتی کارروائی کے دوران تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی۔
احتساب عدالت لاہور میں گجرات منصوبوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی خردبرد کے کیس کی سماعت ہوئی، جہاں نیب کی جانب سے دائر ریفرنس پر کارروائی آگے بڑھائی گئی۔
عدالت نے فردِ جرم عائد کرتے ہوئے ملزمان کو باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنے کا حکم دیا، ملزمان کی جانب سے الزامات مسترد کیے گئے اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ بے گناہ ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے اس کیس میں شریک ملزمان سلیمان احمد اور مظفر اقبال کی گرفتاری کے بعد ایک سپلیمنٹری ریفرنس دائر کیا تھا، جسے موجودہ عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جسٹس (ر) منصور علی شاہ نے وکالت شروع کر دی
اس کیس میں نیب کا مؤقف ہے کہ گجرات کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد کیس ٹرائل کے اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں نیب کی جانب سے شواہد اور گواہوں کے بیانات فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ عدالت کی ہدایت پر اگلی سماعت میں نیب اپنے گواہ پیش کرے گا، جس کے بعد جرح اور مزید قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔