اپنے پیغام میں جسٹس منصور علی شاہ نے بتایا کہ استعفیٰ دینے کے بعد وہ دوبارہ وکالت کے شعبے میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ان کی پیشہ ورانہ توجہ بین الاقوامی اور ملکی ثالثی، تنازعات کے حل اور سٹریٹجک قانونی مشاورت پر مرکوز ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ روایتی عدالتی کارروائی کے بجائے جدید اور متبادل قانونی حل فراہم کرنے کے شعبے میں کام کریں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ اس وقت لمز یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہا ہوں، جہاں قانون کے طلبہ کیلئے تدریسی ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ 2026 میں یلے لاء سکول جبکہ 2027 میں پینسلوانیا کیری لاء سکول میں بھی تدریسی فرائض سرانجام دیں گے، جو ان کے بین الاقوامی تعلیمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق فیصلہ کل تک ہونے کا امکان
سابق سینئر جج نے یہ بھی کہا کہ وہ ثالث اور میڈی ایٹر کے طور پر تقرری کیلئے دستیاب ہوں گے، تاکہ قانونی تنازعات کو عدالتوں سے باہر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کا دوبارہ وکالت میں آنا ملکی قانونی نظام کیلئے اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ان کا تجربہ اور علمی پس منظر ثالثی اور قانونی مشاورت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔