تفصیلات کے مطابق حکومت نے فیلڈ ڈیوٹی (جیسے ایمرجنسی، آپریشنل یا فیلڈ ورک کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں) پر مامور گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ چیف سیکریٹری پنجاب کے مطابق حکومت گرین انرجی اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمر بچوں کے والدین کو وظیفہ دینے کا فیصلہ
اس سلسلے میں نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی۔ نئے پیٹرول پمپس کے این او سی کی منظوری اب صرف ای وی چارجنگ یونٹس نصب کرنے کی شرط پر دی جائے گی۔ کوئی نیا پیٹرول پمپ بغیر چارجنگ یونٹ کے کام نہیں کر سکے گا۔
حال ہی میں منظور کیے گئے تقریباً 170 نئے پیٹرول پمپس (31 شہروں میں) پر بھی چارجنگ یونٹس لگانا لازمی ہے جن میں فیصل آباد کے 29، لاہور کے 14، بہاولپور کے 10، خانیوال اور بہاولنگر کے 9، 9، راولپنڈی اور جھنگ کے 8 ، 8، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، قصور، چنیوٹ کے 7، 7 شہر شامل ہیں۔
یہ فیصلہ پنجاب میں فضائی آلودگی (خصوصاً لاہور کی سموگ) کم کرنے، تیل کی درآمدات میں کمی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کے قومی اہداف کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ پابندی صرف سرکاری محکموں کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر لاگو ہوگی۔ عام عوام یا نجی شعبے کے لیے ابھی کوئی مکمل پابندی نہیں ہے، یعنی نجی افراد اب بھی پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں خرید سکتے ہیں۔