سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ سے سابق وزیراعظم عمران خان کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، قید تنہائی نہ صرف پاکستان کے قوانین کے تحت غیر قانونی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون واضح طور پر تنہائی میں قید کو تشدد کی ایک شکل تسلیم کرتا ہے، اس کے باوجود عمران خان کو اُن کے انتہائی بنیادی قانونی حقوق تک سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر دعاؤں کے انعقاد کا اعلان
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہر منگل کو چھ اہلِ خانہ اور چھ وکلا قانوناً اُن سے ملاقات کے حقدار ہیں،یہ کوئی رعایت نہیں، یہ اُن کا آئینی و قانونی حق ہے لیکن ہمیں اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل بروز منگل دوپہر ایک بجے پی ٹی آئی کارکنان اڈیالہ جیل کے باہر ختمِ قرآن میں ہمارے ساتھ شریک ہوں جس کے بعد عصر کی نماز کے بعد اجتماعی دعا ہوگی۔
For the past three months, Imran Khan has been held in complete isolation. Solitary confinement is not only illegal under Pakistan’s laws, but a grave violation of basic human rights. International law clearly recognizes solitary confinement as a form of torture. Despite this,…
— Aleema Khanum (@Aleema_KhanPK) January 12, 2026
علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دعا عمران خان، بشریٰ بی بی اور اُن تمام افراد کی رہائی کے لیے ہے جو غیر قانونی طور پر قید رکھے گئے ہیں، ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان بھر میں اور دنیا بھر میں پاکستانی وقت کے مطابق 3:30 بجے اجتماعی دعا میں شامل ہوں۔