آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہو گا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہو گا۔
فائل فوٹو
کراچی: (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہو گا۔

باغ جناح کراچی میں جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جس جلسے کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے یہ جلسہ تو ضرور ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بلدیہ ٹاؤن ڈسٹرکٹ کیماڑی، بنارس چوک ڈسٹرکٹ ویسٹ، گولیمار ڈسٹرکٹ سینٹرل اور گرومندر ڈسٹرکٹ سے ہوتے ہوئے مزار قائد پہنچیں گے، تمام کارکنان باغ جناح پہنچیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ گاڑی میں سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نو مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق

دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کا آخری دن ہے، پیر کو ان کی واپسی ہے، سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے، اچھے ماحول کو چلنے دیں پلیز۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسہ مقررہ وقت ، مقام پر اور قانون کے مطابق جمہوری انداز میں ہو گا، یہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لئے ہو گا، ہم نے بہت برداشت کیا آپ بھی ایک دن صبر کر لیں۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ کراچی والو کپتان کے نمائندے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مایوس نہیں کرنا ، جلسہ میں شرکت کریں۔

ادھر باغ جناح کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کو بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت مل گئی

دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو دورۂ سندھ پر مکمل سکیورٹی فراہم کی، وزیراعلیٰ ایک آئینی عہدہ ہے اور صوبائی حکومت نے آئینی تقاضوں کے مطابق اس عہدے کا مکمل احترام کیا۔

شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی انتظامیہ حکومتِ سندھ سے مسلسل رابطے میں رہی، اجازت کے باوجود الزامات عائد کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔