ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختو نخوا میں ہی کیوں ہوتے ہیں ؟ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان، بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشت گردی کی بنیاد پر بنا ہوا ہے، ریاست کا دہشت گردی کیخلاف مؤقف واضح ہے، افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن ہے، خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں ایک ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے، 2025 میں دہشت گردی کے 5 ہزار 400 واقعات ہوئے، اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک خود کش حملہ ہوا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 3 ہزار 811 واقعات ہوئے، 2025 میں 2 ہزار 597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہماری 1235 شہادتیں ہوئیں، گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا جاتا ہے، بھارت کو سبق سکھانا ضروری تھا، گزشتہ سا ل دہشت گردوں کی جانب سے 27 خودکش حملے کیےگئے، بلوچستان میں 10، اسلام آباد میں ایک خود کش حملہ ہوا، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ کسی پاکستانی شہری کو گزند پہنچائے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ سال ہونے والے 10 بڑے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے، القاعدہ، داعش، بی ایل اے افغانستان میں موجود ہیں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں، حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈر لایا گیا، شام میں 2 ہزار 500 دہشت گرد افغانستان میں داخل ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج نے پوری قوم کی جنگ ہے، افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرز عمل کے مطابق منظم کیا، شام سے افغانستان منتقل ہونے والے دہشت گردوں میں کوئی پاکستانی نہیں، بھارت سے دہشت گردوں کو پیسہ اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔