وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے زیر صدارت خیبرپختونخوا ٹرانسمشن لائن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے بارے اہم اجلاس ہوا جس میں ٹرانسمشن لائن اور پن بجلی منصوبوں میں پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ چار سالوں کے دوران جاری منصوبوں کی تکمیل سے 800 میگاواٹ بجلی دستیاب ہو گی، ملتان پاور ہاؤس سے چکدرہ گرڈ سٹیشن تک 120 کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن بچھائی جا رہی ہے، ٹرانسمشن لائن منصوبے کے 40 کلومیٹر طویل لاٹ ون پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 36 میگاواٹ درال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل اور فعال ہے، مجموعی طور پر 224 میگاواٹ استعداد کے حامل سات منصوبے فعال ہیں، 84 میگاواٹ گورکن ملتان منصوبے پر 87 فیصد پیش رفت ہے، منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل ہو گا۔
اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 95 میگاواٹ گبرال کالام، 215 میگاواٹ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹس 2027 میں مکمل ہوں گے۔
اس کو بھی پڑھیں: صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کو تیار ہوں، آفریدی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ٹرانسمشن اینڈ گرڈ سٹیشن کمپنی کو ٹرانسمشن لائن کے جاری منصوبے کی معیاری اور بروقت تکمیل کی ہدایت کی جبکہ خیبرپختونخوا ڈسٹری بیوشن کمپنی کی فزیبیلٹی 6 ماہ میں مکمل کرنے اور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے مسودہ کو حتمی شکل دینے اور پن بجلی کے جاری منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبوں سے پیدا شدہ بجلی صنعتوں کو سستے نرخوں پر فراہم کریں گے، صنعتوں کے فروغ سے معاشی استحکام بڑھے گا اور روزگار کے مواقع وسیع ہوں گے، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، غفلت یا غیر سنجیدگی ہر گز برداشت نہیں ہو گی، ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں بلکہ اگلی نسل کا سوچنا ہے۔