حکومت نے مینول اسٹامپ پیپر پر پابندی عائد کر دی
Khyber Pakhtunkhwa e-stamp policy
فائل فوٹو
پشاور: (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں مینول اسٹامپ پیپرز کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

اس فیصلے کے بعد اب صوبے بھر میں صرف ای اسٹامپ پیپرز جاری کیے جائیں گے، اس حوالے سے محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں تمام ضلعی خزانہ دفاتر کو غیر استعمال شدہ مینول اسٹامپ پیپرز کی فروخت فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔

محکمہ ریونیو کے مطابق یہ اقدام صوبے میں مالی نظام کو شفاف بنانے اور اسٹامپ پیپرز کے روایتی طریقہ کار میں پائی جانے والی مالی بے ضابطگیوں، جعلسازی اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مینول اسٹامپ پیپرز کے غلط استعمال اور جعلی دستاویزات کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ ناگزیر ہو چکا تھا۔

سرکاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ای اسٹامپ پیپرز کا اجرا 2022 سے بینک آف خیبر کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ای اسٹامپ سسٹم کے تحت ہر اسٹامپ پیپر کمپیوٹرائزڈ اور منفرد شناختی نمبر کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے، جس سے جعلسازی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سال 2026 ہونڈا CG 125 کی نئی قیمت اور فیچرز کا اعلان

واضح رہے کہ ای اسٹامپ نظام نہ صرف محفوظ ہے بلکہ عوام کیلئے بھی سہل ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اسٹامپ پیپرز کا ریکارڈ آن لائن محفوظ رہتا ہے اور کسی بھی مرحلے پر تصدیق ممکن ہوتی ہے۔ اس نظام سے عدالتی، جائیداد اور قانونی لین دین میں شفافیت میں اضافہ متوقع ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت مزید اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ صوبے میں ریونیو کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔