ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کو پنشن کی مد میں 16 کروڑ 10 لاکھ روپے ملے جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کو 15 کروڑ 40 لاکھ روپے کی رقم ملی ہے، دونوں ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے پر بالترتیب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کمیوٹڈ پنشن حاصل کی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد ملازمت کی ، دونوں سابق ججز کو ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب 11 لاکھ روپے اور 12 لاکھ روپے سے زائد رقم مل رہی ہے، دونوں سابق ججز کوریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل، رہائش و دیگر سہولیات اور بیگمات کیلئے مراعات حاصل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے ہاؤس رینٹ ساڑھے 3 لاکھ روپے جبکہ سپیرئیر جوڈیشل الاؤنس 11لاکھ روپے سے زائد کر دیا تھا، جسٹس اطہر من اللہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 12 کروڑ 20 لاکھ 381 روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ سپریم کورٹ سے مستعفی
جس میں ڈرائیور پنشن 25 ہزار 891 روپے، خصوصی اضافی پنشن 84 ہزار 885 روپے، میڈیکل الاؤنس 45 ہزار 799 روپے اور 11 ہزار 450 روپے شامل ہیں۔
اسی طرح جسٹس منصور علی شاہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 11 کروڑ 35 لاکھ 496 روپے ہے، جس میں ڈرائیور پنشن 91 ہزار 258 روپے اور میڈیکل الاؤنس 45 ہزار 799 روپے اور 11 ہزار 450 روپے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ “سپریم کورٹ ججز آرڈر 1997ء” کے تحت دونوں سابق جج صاحبان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اضافی مراعات دی گئی ہیں،جن میں میڈیکل، رہائش کی سہولت، مکمل اسٹاف، یوٹیلٹی بلز کی حد، سرکاری گاڑی و ایندھن، سکیورٹی و استثنیٰ، پرچم پروٹوکول اور بیگمات کے لیے مراعات شامل ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: ججز کی سینیارٹی ازخود طے کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اعتراض
واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے مجموعی طور پر 16 سال، ایک مہینہ اور 26 دن بطور جج خدمات انجام دیں جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال، چار مہینے اور 24 دن ملازمت کی۔
یاد رہے کہ نومبر 2025میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجاً سپریم کورٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔