
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ بارش منڈی بہاؤالدین اور گجرات بیلٹ میں ریکارڈ کی گئی، جہاں شدید بارشوں نے شہری زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی پانی کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام سے اس وقت 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، جس کے باعث دریائے ستلج کے قریبی دیہات کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت آبی جارحیت سے باز نہ آیا، دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس وقت ہیڈ سلیمانکی کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ہیڈ مرالہ کے مقام پر ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، جو نیچے کی طرف کے اضلاع کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
حکام کے مطابق امکان ہے کہ کل صبح تک یہ سیلابی ریلہ ہیڈ تریموں سے گزرے گا، جہاں پہلے ہی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ہیڈ تریموں کے مقام سے فی الحال ایک لاکھ 45 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے جس سے نشیبی علاقوں میں مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دریائے راوی کے حوالے سے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ وہاں پانی کی سطح میں تیزی سے کمی آرہی ہے جس سے لاہور سمیت دیگر علاقوں میں کچھ بہتری کی امید ہے۔ تاہم، دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے جنوبی پنجاب کے کئی علاقے اب بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کے دباؤ میں اضافہ متوقع ہے جس کے باعث قریبی بستیوں کے مکینوں کو الرٹ رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں، فوج اور مقامی رضاکار مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی، خشک راشن اور ابتدائی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے الرٹ ہیں اور عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔