انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر رائٹ آف وے فیس ختم
Right of Way Fee Abolished
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کی تنصیب پر عائد رائٹ آف وے فیس ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

 یہ فیصلہ وزارتِ آئی ٹی کے نیشنل فائیبرائزیشن پلان کے تحت کیا گیا ہے، جسے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شازہ فاطمہ خواجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام سے سرمایہ کاروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے انٹرنیٹ کی رسائی بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں تک بھی آسان ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے پاکستان میں سرکاری زمین پر 36 روپے فی میٹر جبکہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں 200 سے 400 روپے فی میٹر تک رائٹ آف وے فیس وصول کی جاتی تھی۔ اس کے مقابلے میں پڑوسی ملکوں میں یہ فیس صرف ایک روپے فی میٹر ہے، یہی وجہ تھی کہ پاکستان کو کاروباری مواقع کیلئے فرینڈلی ملک نہیں سمجھا جاتا تھا۔

قومی شاہراہ اتھارٹی (NHA)، پاکستان ریلوے اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے پالیسی پر عمل درآمد کیلئے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلابی صورتحال، پی پی ایس سی کے امتحانات ملتوی

واضح رہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ٹیکنالوجی انڈسٹری کو فروغ ملے گا بلکہ برآمدات میں اضافہ اور نان آئی ٹی بزنسز کو بھی جدید انفراسٹرکچر سے فائدہ پہنچے گا۔ طلبہ کیلئے معیاری آن لائن تعلیم کی سہولت بہتر ہوگی، جبکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے نئے دروازے کھلیں گے۔

حکومتی اعلان کو آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے پاکستان خطے میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کر سکے گا۔