
ریگولر ملازمین کو 13 ارب، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کیلئے 3 ارب، بقایاجات کیلئے 5 ارب روپے تک کا پیکیج منظور کیا گیا۔ ملازمین کے 31 جولائی تک تنخواہوں کی مد میں 70 سے 80 ارب بھی منظور ہوگئے، مجموعی طور 30 ارب 21 کروڑ کا پیکیج دیا گیا ہے۔ حکومت نے 54 سال پرانا سرکاری ادارہ ختم کر دیا اور تقریباً ساڑھے 11 ہزار ملازمین نوکری سے فارغ ہوگئے، انہیں فوری رقم جاری کی جائے گی۔ کمپنیوں کے بقایاجات کی مد میں یوٹیلیٹی سٹورز کے ذمہ 15 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں جو پراپرٹیز فروخت کر کے کلیئر کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا ایک سال کے دوران دو فیزز میں تمام بقایاجات کلیئر کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ علاقوں میں کالجز بند کرنے کا فیصلہ
یہ تجویز بھی تھی کہ تمام پراپرٹیز اور اثاثہ جات یوٹیلیٹی سٹورز کمپنی کے طور پر نجکاری سے فروخت کیا جائے، نجکاری کمیشن نے اعتراض کیا کہ فنانشل سٹیٹمنٹ کلوز ہونے کے باعث خریدار نہیں مل سکے گا۔ یہ بھی غور کیا گیا کہ ایک سال مزید ادارہ چلایا جائے لیکن سالانہ 25 ارب نقصان کے خدشہ کے باعث تجویز نہیں مانی گئی۔
وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق ای سی سی اجلاس میں ملازمین کے واجبات اور مراعات کی ادائیگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، پیکیج کی سمری وزارت صنعت نے پیش کی اور ادارے کی بندش کا عمل شفاف اور منظم انداز میں مکمل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اثاثے موجودہ مالی سال میں ہی فروخت کرنے کی منظوری دی گئی جس کی آمدن سے بندش کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ وزارت صنعت کو ہدایات جاری کی گئیں کہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے واجبات، معاوضے اور بقایاجات کی فوری ادائیگی کی جائے۔
ذرائع کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز کے واجبات 54 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں اور وہ ایف بی آر، ٹریڈنگ کارپویشنز، وینڈرز کا نادہندہ ہے۔ 3 سو ملازمین یوٹیلیٹی سٹورز کی نجکاری تک نوکری پر رہیں گے اور پراپرٹیرز کی فروخت تک کام کریں گے۔