ماحول دوست اقدامات صحت مند زندگی کو دوام بخشتے ہیں: ماہر ماحولیات طارق علی نظامانی
آج کے تیز رفتار شہری ماحول میں مہنگائی، روزگار، گھریلو مسائل، سماجی دباؤ اور مسلسل مصروفیات کے باعث بہت سے لوگ ذہنی تناؤ، بے چینی اور اضطراب کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ذہنی سکون کے لیے بڑے اور مشکل حل تلاش کرنے کے بجائے روزمرہ زندگی میں فطرت اور سبزے سے تعلق پیدا کرنا ایک سادہ اور مثبت طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
طارق علی کا کہنا ہے کہ جب انسان اپنے اردگرد سبزہ دیکھتا ہے، پودے لگاتا ہے اور ان کی دیکھ بھال میں وقت گزارتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے روزمرہ کی پریشانیوں سے خود کو دور کر لیتا ہے۔ صاف ماحول، سبزہ اور فطرت سے تعلق انسان کے احساسات کو تازگی دیتے ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر شخص اگر اپنے گھر، گلی، محلے یا دفتر کے آس پاس تھوڑی سی جگہ کو سبز بنانے کی کوشش کرے تو اس کا فائدہ صرف ماحول کو نہیں بلکہ شہریوں کی مجموعی ذہنی کیفیت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارش کہاں ہوگی اور کہاں رہے گی گرمی برقرار؟ اہم پیشگوئی جاری
ان کے مطابق کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، صفائی کا خیال رکھنا، پودے لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بظاہر چھوٹی سرگرمیاں ہیں، لیکن یہی سرگرمیاں انسان کو مثبت اور تعمیری مصروفیت فراہم کرتی ہیں۔
ماہر ماحولیات طارق علی نظامانی کا ماننا ہے کہ ماحول کو صرف صفائی یا خوبصورتی کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ صاف اور سرسبز ماحول دراصل انسان کے سکون، مثبت احساسات اور بہتر طرزِ زندگی کا بھی حصہ ہے۔ اگر ہم اپنے شہر کو سبز اور صاف رکھنے میں روزانہ تھوڑا سا وقت دیں تو یہ وقت ہمارے اپنے ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ یا
ڈپریشن کی صورت میں پیشہ ورانہ طبی یا نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم فطرت کے قریب وقت گزارنا، جسمانی سرگرمی اور مثبت مصروفیات مجموعی ذہنی صحت کے لیے معاون عادات کا حصہ بن سکتی ہیں۔