رات کو آئسکریم کھانے کے چونکا دینے والے نقصانات
تحقیقی رپورٹس کے مطابق رات کے وقت آئسکریم کا زیادہ استعمال نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ دماغی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایتھوپیا کے ایک زرعی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ سونے سے پہلے آئسکریم کھانے سے جسم میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انسولین کے نظام پر دباؤ پڑتا ہے اور اگلے دن ذہنی چستی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق آئسکریم میں شکر اور چکنائی کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، چونکہ اسے مکمل چکنائی والے دودھ اور کریم سے تیار کیا جاتا ہے، اس لیے رات کے وقت اس کا استعمال جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ گلوکوز کی سطح میں اچانک اضافہ بعض افراد میں دماغی دھند، تھکن اور توجہ کی کمی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رات دیر سے آئسکریم کھانے سے نیند میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، ناقص نیند کے باعث صبح کے وقت جسمانی اور ذہنی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ مسلسل یہ عادت اپنانے سے صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رات گئے آئسکریم کھانے سے نظامِ ہاضمہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ زیادہ چکنائی اور شکر کی موجودگی خوراک کے ہضم ہونے کے عمل کو سست کر دیتی ہے، جس سے بدہضمی، اپھارہ اور معدے کی بے چینی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگر میٹھا کھانے کی خواہش ہو تو دن یا شام کا وقت زیادہ موزوں ہے، کیونکہ اس دوران جسم خوراک کو بہتر انداز میں ہضم کر سکتا ہے اور صحت پر منفی اثرات کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔