پاکستان کی 40 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار
قومی اسمبلی
حکومت کے مطابق پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی ذیابیطس یا اس سے متعلق امراض کا شکار ہے/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حکومت نے بتایا کہ رواں سال چینی کی پیداوار 6.8 سے 7 ملین میٹرک ٹن کے درمیان متوقع ہے۔

حکومت کے مطابق پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی ذیابیطس یا اس سے متعلق امراض کا شکار ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ چینی کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔ چینی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عوام کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس سے ذیابیطس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ امر بھی تشویش کا باعث ہے کہ چینی کی کھپت بڑھنے کے ساتھ ہی اس کے مضر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آسان اقساط پر بائیکس، رکشہ اور لوڈر سکیم پر عملدرآمد شروع

پاکستان میں چینی کی ضرورت سے زیادہ کھپت پر مختلف ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ چینی کی زیادہ مقدار جسم میں انسولین کی مزاحمت پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے عوام میں آگاہی بڑھانے اور چینی کے زیادہ استعمال پر کنٹرول کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں مزید بتایا گیا کہ جولائی 2024 سے جون 2025 تک ریلوے کی 781 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری شاہد عثمان نے بتایا کہ رشین انڈسٹریل انجینئرنگ کارپوریشن کے ساتھ 2 پروٹوکولز پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس معاہدے کے تحت سٹیل ملز کے پیداواری آپریشنز کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ سٹیل ملز کے پیداواری آپریشنز 2015 سے بند ہیں اور حکومت نے اس کی بحالی کے لیے پاکستان سٹیل ملز کی 700 ایکڑ اراضی مختص کی ہے۔

اس کے علاوہ، رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ سٹیل ملز سے 7709 ملازمین کو نکالا گیا تھا، جس کے باعث بہت سے خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہوئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سٹیل ملز کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملازمین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔