وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور صوبائی وزیر صحت کو معاملہ فوری حل کرنے اور ہیلتھ کارڈ کے ضمن میں تمام ہسپتالوں کے واجبات فوری ادا کرنے کی ہدایت کی۔
میر سرفراز بگٹی نے حکم دیا کہ ہیلتھ کارڈ پر کسی مریض کا علاج نہیں رکنا چاہیے، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے غریب مریضوں کے علاج معالجے کا سلسلہ بدستور جاری رہنا چاہیے، صوبے کے غریب و نادار مریضوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق میں صحت سہولت کارڈ کو مستقل بنانے کیلئے بڑی پیشرفت
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے طبقات کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، اس مقصد سے انحراف ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر کسی ہسپتال کی جانب سے علاج روکنے یا مریضوں کو واپس بھیجنے کی شکایات درست ثابت ہوئیں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبے کے بعض ہسپتالوں میں واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ہیلتھ کارڈ کے تحت مریضوں کے علاج میں رکاوٹوں کی شکایات سامنے آئی تھیں جس پر شہریوں اور مریضوں کے لواحقین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اس کو بھی پڑھیں: پنجاب میں صحت کارڈ پر علاج ختم، حکومت کا نیا پروگرام متعارف
اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ بلوچستان نے فوری مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ عوام کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے بعد واجبات کی ادائیگی اور سسٹم کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور جلد ہی ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج کا عمل مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔