مومنہ اقبال نے صلح کیلئے کتنے کروڑ مانگے؟
ثاقب چدھڑ نے ٹی وی چینل ’’ سنو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’ سنو تو سہی‘‘ میں میزبان حنا نیازی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال نے اپنے وکیل عدنان احسن کے ذریعے صلح کے لیے پہلے 20 کروڑ روپے کی ڈیمانڈ کی، تاہم بعد میں مبینہ طور پر 9 کروڑ روپے کی کمی کر کے 11 کروڑ روپے طلب کیے گئے۔
ثاقب چدھڑ کا کہنا تھا کہ اگر صلح کے لیے اتنی بڑی رقم طلب کی گئی تو پھر یہ فیصلہ کیا جائے کہ بلیک میلر کون ہے۔
دوسری جانب مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے معاملے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے تحقیقات کے دوران دونوں فریقین سے متعلق کچھ ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے ہیں، جن کی بنیاد پر دونوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ جمع کیے گئے ڈیجیٹل شواہد میں ایک ایسی ویڈیو بھی شامل ہے جو پہلے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی، جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے مبینہ طور پر فراہم نہ کیا جانے والا کچھ ڈیٹا بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ دونوں کو متعلقہ ڈیجیٹل شواہد خود تفتیشی ادارے کے حوالے کرنے چاہئیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر نے اپنی ’ڈھولکی‘ کی تصاویر شیئر کر دیں؟
عدالت میں این سی سی آئی اے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ فی الحال دونوں فریقین کی گرفتاری مطلوب نہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق گرفتاری نہ مانگنا تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے، کیونکہ بعض مقدمات میں فوری گرفتاری کے بجائے پہلے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات آگے بڑھائی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کو 10 روز کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے طلب کیا جائے گا۔ نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر دونوں سے الگ الگ تفتیش کی جائے گی جبکہ انہیں سوالنامے بھی دیے جائیں گے۔
تفتیشی ادارہ گردش کرنے والی ویڈیو اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا سے متعلق بھی دونوں فریقین سے سوالات کرے گا کہ مذکورہ شواہد یا ان سے متعلق معلومات ادارے کے حوالے کیوں نہیں کی گئیں۔
این سی سی آئی اے نے فرانزک آڈٹ کے ذریعے موبائل فونز سے جو ڈیٹا حاصل کیا ہے، اس سے متعلق سوالات بھی تحقیقات کا حصہ ہوں گے۔
تاہم اس مرحلے پر کسی بھی فریق کو بے گناہ یا قصوروار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ این سی سی آئی اے نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر انکوائری مکمل کرے گی، جس کے بعد رپورٹ ڈی جی این سی سی آئی اے کو پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔