ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی
سوشل میڈیا پر ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی سے منسوب ایک مبینہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے/فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی سے منسوب ایک مبینہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی۔

 صارفین کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیو شیئر کیے جانے پر مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی نے اس معاملے پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ گردش ویڈیو جعلی ہے اور اسے اے آئی (Artificial Intelligence) کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، میرے ہاتھ میں قرآن ہے، میری فیک اے آئی ویڈیو بنائی گئی انہیں بس یہ تکلیف ہے کوئی غریب لڑکی امیر کیسے ہو گئی۔

فاطمہ جتوئی کے مطابق یہ ویڈیو فیک ہے، میرا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی نے دانستہ طور پر انہیں بدنام کرنے اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مواد تیار کیا اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیا۔ فاطمہ جتوئی نے مداحوں اور صارفین سے اپیل کی کہ وہ اس ویڈیو کو آگے شیئر کرنے کے بجائے رپورٹ کریں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پر عابدہ پروین کے انتقال کی خبر جھوٹی نکلی

ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث معروف شخصیات سمیت عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں متعلقہ فرد کو چاہیے کہ وہ پلیٹ فارم پر فوری رپورٹ درج کرے، ثبوت محفوظ کرے اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرے۔

@fatima.pakistani.vlog

 

♬ tranloptruon - trân🫡🇻🇳

واضح رہے کہ اس خبر میں زیرِ گردش ویڈیو کی صداقت کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم متاثرہ فریق کی جانب سے ویڈیو کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔