نئی آٹو پالیسی 2031-2026 کی منظوری، آئی ایم ایف کی تجویز مسترد
اسلام آباد سے جاری دستاویز کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جبکہ آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کے لیے 2030-31 تک ٹیرف 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2031 تک الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بتدریج کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم ٹیرف متعارف کرانے اور الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسی طرح فنانسنگ کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے چھوٹی گاڑیوں کی خریداری آسان بنائی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کی تاریخ تبدیل، مارچ2027 کی تاریخیں مقرر
آٹو پالیسی میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور آٹو پارٹس تیار کرنے والے اداروں کے لیے برآمدی اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ آٹو پارٹس کی برآمدات 2030-31 تک 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہے، جبکہ برآمدی اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مراعات دینے اور اہداف میں ناکامی پر جرمانے عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مسلسل دو سال برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق 1000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کی جائے گی، جبکہ پانچ سال کے دوران اس مد میں 232 ارب روپے سے زائد وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس رقم کو برآمدی مراعات، صنعتی ترقی اور آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے۔
نئی پالیسی میں پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ کے قیام، گاڑیوں کے حفاظتی معیار بہتر بنانے، عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے اور خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ آٹو سیکٹر میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سال میں دو مرتبہ آڈٹ اور مقامی پیداوار و برآمدی مراعات کی ادائیگیوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
حکومت نے آٹو سیکٹر میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت اور تحقیق کے فروغ کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے ہیں، جبکہ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے متعلق قانون دسمبر 2026 تک تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔