بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فونز پر ٹیکس سے متعلق حکومت کا بڑا اعلان
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ٹیکس اقساط پروگرام کے اعلان کے تقریباً دو ماہ بعد اس سہولت کی باقاعدہ منظوری دی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق اس سہولت کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک سے درآمد کیے گئے اور ذاتی استعمال کے لیے لائے جانے والے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس اقساط میں جمع کرایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اولمپیاڈ سمرقند 2026: پاکستان کا اسرائیل کے خلاف شطرنج میچ کا بائیکاٹ
نئے طریقہ کار کے تحت شہریوں کو موبائل فون کا سیلز ٹیکس ایک ساتھ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم متعلقہ مالیاتی سال کے اختتام سے قبل تمام واجب الادا ٹیکس کی مکمل ادائیگی لازمی ہوگی۔
یہ سہولت پی ٹی اے کے ’ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کے ذریعے فعال کی جائے گی، جس کے تحت موبائل فونز کی رجسٹریشن اور متعلقہ ٹیکس ادائیگی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے جولائی 2019 میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے مفت موبائل فون کی سہولت ختم کردی تھی، جس کے بعد مقامی موبائل نیٹ ورکس پر فون استعمال کرنے کے لیے متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی تھی۔