قومی بچت سکیموں کے شرح منافع میں اضافہ کر دیا گیا
دستاویز کے مطابق قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں ایک فیصد سے 2.20 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، نئی شرح منافع کا اطلاق 26 مئی سے ہو گا جس کے بعد سرمایہ کاروں کو پہلے کے مقابلے میں بہتر منافع حاصل ہو سکے گا۔
حکام کے مطابق خصوصی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح بڑھا کر 11.6 فیصد تک کر دی گئی ہے جبکہ ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر منافع کی نئی شرح 11.82 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ماہانہ یا مقررہ مدت کے مطابق منافع ملتا ہے اس لیے شرح منافع میں اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 12 فیصد پر برقرار رہے گی، ان اسکیموں سے زیادہ تر بزرگ شہری، ریٹائرڈ افراد، بیوائیں اور پنشنرز فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے حکومت نے ان کے منافع کی شرح کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم فراڈ سے بچنے کیلئے سٹیٹ بینک کی نئی ہدایات جاری
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی بچت اسکیموں کے شرح منافع میں اضافہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شہری محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں، ایسے میں قومی بچت اسکیموں کا بہتر منافع عوام کے لیے ریلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح منافع میں اضافہ خوش آئند ہے تاہم حکومت کو مہنگائی کے تناسب سے بچت اسکیموں کو مزید پرکشش بنانا چاہیے تاکہ عام شہری اپنی جمع پونجی محفوظ انداز میں لگا سکیں۔