عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پَر لگ گئے
حالیہ جغرافیائی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے، جس کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملے اور ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ بڑھ کر 107.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت میں بھی 1.32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 110.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن اور توانائی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا جیٹ فیول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
اس صورتحال سے ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ عوام کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
اقتصادی حلقوں کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے، جس پر سرمایہ کاروں اور حکومتوں کی گہری نظر ہے۔