ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں 11.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یہ 111.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح برینٹ کروڈ کی قیمت میں بھی 7.87 فیصد اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت 109 ڈالر فی بیرل مقرر ہوئی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، توانائی کی سپلائی میں خلل اور عالمی طلب میں اضافے کے اثرات تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ان عوامل کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں بھی خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات واضح ہو رہے ہیں، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے باعث بجلی، گیس، اور دیگر اشیاء ضروریہ مہنگی ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے عوام پر مالی بوجھ بڑھنے کا خطرہ ہے۔
معاشی ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا پٹرول 80 روپے فی لیٹر کم کرنیکا اعلان
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں کا مزید اتار چڑھاؤ عالمی اقتصادی حالات کیلئے سنجیدہ چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔